پریس ریلیز

میڈیا اپ ڈیٹ: اقوام متحدہ پاکستان، 3 نومبر 2022

04 November 2022

  • پاکستان  میں تباہ کن سیلاب کے بعد 20لاکھ سے زائد بچے اب بھی  اسکولوں کی بحالی کے منتظر ہیں : یونیسف

 

 

 

 

پاکستان  میں تباہ کن سیلاب کے بعد 20لاکھ سے زائد بچے اب بھی  اسکولوں کی بحالی کے منتظر ہیں : یونیسف

اسلام آباد/نیو یارک، 3 نومبر 2022:  پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے بعد 20لاکھ سے زائد بچے اب بھی اپنے اسکولوں کی بحالی کے منتظر ہیں ۔ ملک کی تاریخ کے بدترین سیلاب نے تقریباً 27 ہزار اسکولوں کو  جزوی یا مکمل نقصان پہنچایا ہے۔

یونیسف کے گلوبل ڈائریکٹر آف ایجوکیشن رابرٹ جینکنز نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں  کے دورے سے واپسی پر بتایا ،  ’’پاکستان کے لاکھوں بچے راتوں رات  انتہائی تکلیف دہ حالات میں اپنے خاندان کے افراد، گھروں،  ذاتی تحفظ  اور تعلیم کی سہولت سے محروم ہو گئے۔  اب انہیں ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے کہ وہ اسکول واپس آسکیں گے یا نہیں ،  حالانکہ  وبائی مرض کی وجہ  انہیں اسکولوں کی جس بندش کا سامنا کرنا پڑا وہ دنیا کی طویل ترین بندشوں میں سے ایک تھی ،اور  اب ان کے مستقبل کو مزید خطرات کا سامنا ہے ۔‘‘

پاکستان کے اکثر علاقوں کے تباہ کن سیلاب سے متاثر  ہونے کے دو ماہ  بعد اب سیلابی پانی میں ڈوبے  اسکولوں کی چھتوں کے کچھ حصے نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق سیلابی پانی کو مکمل طور پر اترنے میں اب بھی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔

تعلیم و تربیت کے علاوہ  اسکول بچوں کو صحت کی دیکھ بھال، نفسیاتی مدد، اور حفاظتی ٹیکوں تک رسائی فراہم کرنے میں اہم  کردار ادا کرتے ہیں۔اسکولوں کی بندش کے دورانیے میں اضافہ سے ، بچوں کے تعلیم ترک کرنے کا خطرہ  بڑھ جائے گا،  جس سے مزدوری اور کم عمری کی شادیوں پر مجبور ہونے کے علاوہ   استحصال اور بدسلوکی  کے امکانات  میں بھی  اضافے کا خدشہ  ہے۔

سیلاب سے  سب سے زیادہ متاثر ہونے والے  اضلاع پہلے ہی  پاکستان کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار علاقوں میں سے ہیں۔ موجودہ ہنگامی صورت حال  سے قبل بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک تہائی لڑکے اور لڑکیاں اسکولوں سے باہر تھے اور 50 فیصد بچے غذائی کمی  کا شکار تھے۔ طویل عرصے تک اسکولوں کی بندش سے ان محرومیوں  میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

وبائی مرض کے عروج کے دوران بھی  ، پاکستان بھر میں اسکولوں کو  مارچ 2020 اور مارچ 2022 کے درمیان مکمل یا جزوی طور پر 64 ہفتوں کے لئے بند کردیا گیا تھا ۔ اب  چھ ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد، شدید سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی  کی بدولت  اسکولوں کے بچے ایک بار پھر تعلیم  سے محروم  ہوگئے ہیں۔ بجلی اور انٹرنیٹ کنیکٹوٹی سمیت بنیادی ڈھانچے کو  پہنچنے والے شدید نقصان نے ریموٹ لرننگ کو بھی  بڑی حد تک ناقابل رسائی بنا دیا ہے۔

اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے یونیسف نے ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں 500 سے زائد عارضی تعلیمی مراکز قائم  کیے ہیں اور اساتذہ اور بچوں کو تعلیم کی فراہمی شروع کردی  ہے۔ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے فروغ کے لیے یونیسف اساتذہ کو نفسیاتی نگہداشت اور صحت کی نگرانی  کی تربیت دے رہا ہے اور ان اسکولوں  میں جن کی صفائی اور بحالی کا عمل مکمل ہوگیا  ہے ، ان میں ’اسکول واپسی ‘  اور داخلوں کی سرگرمیاں شروع کرنے  کی تیاری کر رہا ہے ۔

رابرٹ جینکنز کا  مزید کہنا ہے کہ ’’ جن بچوں  نے پہلے کبھی  داخلہ نہیں لیا ، یونیسف کے قائم کیے ہوئے  اسکول ان کے لیے  تعلیم کا پہلا تجربہ ہیں۔  ہم ایسے تمام اقدامات  اٹھائیں گے جس سے  اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ جب بچے  اپنے گھروں کو واپس آئیں تو وہ تعلیم کا سلسلہ  جاری رکھیں۔‘‘

 

#####

 

مدیران کے لیے نوٹ:

ملٹی میڈیا - یونیسف کے گلوبل ڈائریکٹر آف ایجوکیشن رابرٹ جینکنز کا دورہ پاکستان (لنک)

پاکستان سیلاب - مربوط ملٹی میڈیا فولڈر (لنک).

پاکستان میں سیلاب  کے بعد یونیسف کے اقدامات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں (لنک)۔

پاکستان کی تازہ ترین انسانی صورتحال کی رپورٹ (لنک)۔

یونیسیف کے بارے میں

یونیسف دنیا کے سب سے زیادہ پسماندہ بچوں کی مدد  کے لئے دنیا کے مشکل ترین مقامات پر خدمات انجا م دیتا ہے۔ 190 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں، ہم ہر بچے کے لئے ہر جگہ، ہر ایک کے لئے ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لئے کام کرتے ہیں،.

اس اقدام میں حصہ لینے والے اقوام متحدہ کے ادارے

یونیسکو
اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم
یونیسف
اقوام متحدہ کا بچوں کا فنڈ

اس اقدام سے متعلقہ اہداف یہ اقدام کن اہداف کے حصول میں معاون ہو گا