جب بادل چھٹے
پاکستان میں سیلاب کے بعد تعمیر نو
خیبر پختونخواہ کی وادی بونیر کے علاقے بشنائی کلے سے تعلق رکھنے والی، چھ بچوں کی ماں، آمنہ، نے منٹوں میں سب کچھ کھو دیا۔ جب اگست 2025 میں اچانک بادل پھٹا، تو سیلاب کا پانی اس کے گاؤں میں بھر گیا۔ اس کی فصلیں، کھیتی باڑی، سامان اور خاندان کی اکلوتی بکری اس پانی میں بہہ گئی۔ وہ کہتی ہیں، "اب ہم بمشکل کھانا خرید سکتے ہیں، سردیوں کے لیے گرم کپڑے توایک خواب ہیں۔"
اس کا شوہر دو سال سے مفلوج ہے اور کام نہیں کر سکتا۔ موسم سرما میں خاندان کو کھانا کھلانے والی فصل راتوں رات غائب ہو گئی۔ بونیر کے ہزاروں لوگوں کی طرح، آمنہ اب ہنگامی خیمے میں رہتی ہے۔ جب بھی آسمان پر سیاہ بادل جمع ہوتے ہیں، کیمپ کے مکینوں میں خوف کی لہر دوڑ جاتی ہے۔تباہی بڑے پیمانے پر تھی۔ پورے پاکستان میں، 2025 کے مون سون کے سیلاب نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا، گھر تباہ کیے، اور کھیتوں کے وسیع حصّوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا، اور ان زخموں کو دوبارہ کھول دیا جو 2022 کے تباہ کن سیلاب سے ابھی تک تازہ تھے۔
یو این ڈی پی کی ٹیمیں بونیر، سوات اور شانگلہ میں مدد کرنے والی پہلی ٹیموں میں شامل تھیں، جنہوں نے زرعی ٹول کٹس اور کھانا پکانے کے موثر چولہے فراہم کیے۔ انہوں نے بحالی کی رہنمائی کے لیے تباہ شدہ اسکولوں، صحت کی سہولیات، پانی کے نظام اور سڑکوں کا تیزی سے جائزہ لیا۔ نومبر میں، اقوام متحدہ کی اسسٹنٹ سکریٹری جنرل اور یو این ڈی پی کے کرائسز بیورو کی ڈائریکٹر شوکو نودا نے موسمیاتی بحالی کے لیے یو این ڈی پی کے طویل مدتی عزم کی تصدیق کے لیے پاکستان کا دورہ کیا۔ بونیر میں امدادی تقسیم سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے سیلاب متاثرین کی طاقت کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ ہنگامی امداد محفوظ، مضبوط کمیونٹیز کی تعمیر نو کی جانب صرف پہلا قدم ہے۔
2022 کے فلڈ ریکوری پروگرام سے سبق حاصل کرتے ہوئے، یو این ڈی پی طویل مدتی حل کے ساتھ فوری ریلیف کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس میں موسمیاتی لچکدار ذریعہ معاش اور بنیادی ڈھانچے سے لے کر ابتدائی وارننگ سسٹم اور صاف توانائی تک شامل ہیں۔امینہ جیسے خاندانوں کے لیے، بحالی ابھی شروع ہوئی ہے۔ لیکن مسلسل حمایت کے ساتھ، یہ اب وہ سفر نہیں ہے جس کا سامنا انہیں تنہا کرنا پڑے گا۔
"اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر، ہم موسمیاتی زراعت، صاف توانائی کے حل، آفات کے خطرے میں کمی اور ضروری بنیادی ڈھانچے کی بحالی کو آگے بڑھاتے رہیں گے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ بحالی پائیدار لچک کا باعث بنتی رہے۔" - شوکو نودا، اقوام متحدہ اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور ڈائریکٹر، یو این ڈی پی کرائسز بیورو
کہانی: محمد عمر حیات، کمیونیکیشن آفیسر، یو این ڈی پی پاکستان؛
فیلڈ کوٹس: سیدہ زینب، پروگرام مینجمنٹ اسپیشلسٹ اور رابعہ کامران، کمیونیکیشن سپورٹ آفیسر