گلیشیرز کا کرشمہ
شمالی پاکستان کی خواتین کی کہانیاں: کیسے انہوں نے بگڑتے موسم میں بھی کمانے کے راستے ڈھونڈے
پاکستان کے شمالی پہاڑوں میں، جہاں گلیشیرز ایک طرف زندگی دیتے ہیں تو دوسری طرف خطرناک بھی ثابت ہوتے ہیں، وہاں کی عورتیں UNDP کے 'GLOF-II' پروجیکٹ کی مدد سے مشکل حالات کو روزگار میں بدل رہی ہیں۔
اپر چترال کی رہنے والی عائشہ اب شہد کی مکھیوں کے چھتوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ یہ کام ان کے خاندان کے لیے جینے کا سہارا بن گیا ہے، کیونکہ بار بار آنے والے سیلابوں نے ان کا گھر تباہ کر دیا تھا۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے انہوں نے جدید طریقے سے شہد نکالنے کی تربیت حاصل کی، اور اب وہ بازار میں شہد بیچ کر اپنے گھر کا خرچہ چلا رہی ہیں۔ عائشہ کہتی ہیں، "جب سب کچھ بہہ گیا تھا، تب ان مکھیوں نے ہی میرا سہارا بن کر مجھے سنبھالا۔"
پورے علاقے میں اسی طرح کی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ کالام کی پروین نے اپنے گھر کے چھوٹے سے باغیچے کو ایک بڑے کاروبار میں بدل دیا ہے۔ نئی تربیت، بیجوں اور کھیتی باڑی کے جدید طریقوں کی وجہ سے اب وہ اتنی زیادہ سبزیاں اگاتی ہیں کہ انہیں بازار میں بیچ کر اپنے پورے خاندان کا پیٹ پال رہی ہیں۔
گلگت بلتستان میں سمیرا اور فاطمہ مل کر ایک چھوٹا مگر کامیاب کاروبار چلا رہی ہیں۔ وہ علاقے کے پھلوں جیسے خوبانی، اخروٹ اور 'سی بکتھورن' سے قیمتی تیل نکالتی ہیں۔ پروجیکٹ کی طرف سے ملنے والی مشینوں کی وجہ سے اب ان کا خرچہ کم اور کام زیادہ ہوتا ہے، اور ان کا مال دور دور تک بک رہا ہے۔
وہیں قریب ہی لیلیٰ عورتوں کے ساتھ مل کر اون (Wool) کا کام کرتی ہیں۔ نئی مشینوں کی وجہ سے ان کا کام اب دوگنا ہو گیا ہے اور وہ خطرناک جسمانی محنت سے بھی بچ گئی ہیں جو پہلے ان کی صحت خراب کر دیتی تھی۔ اب یہ عورتیں آسانی سے بہترین سوت اور ہاتھ سے بنی چیزیں تیار کر رہی ہیں، جنہیں بڑے بازاروں میں بیچ کر وہ عزت کی کمائی کر رہی ہیں۔
'GLOF-II' پروجیکٹ کا مقصد صرف قدرتی آفات سے بچنا ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ پروجیکٹ خواتین کو نئی مہارتیں سکھا کر، مشینیں دے کر اور ان کا مال بازار تک پہنچا کر انہیں اس قابل بنا رہا ہے کہ وہ موسم کی سختیوں کا مقابلہ بھی کریں اور اپنا گھر بار بھی اچھے سے چلائیں۔ ان وادیوں میں جہاں پگھلتے گلیشیرز مستقبل بدل رہے ہیں، وہاں اب یہ عورتیں کسی پر بوجھ بننے کے بجائے عزت اور آزادی کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی ہیں۔
کالام کی پروین کہتی ہیں: "UNDP کی مدد سے پہلے، میں صرف پانچ سے چھ بوریاں سبزیاں اگا پاتی تھی اور ہر بوری چار سے پانچ ہزار روپے میں بکتی تھی۔ لیکن 2024 میں، میں نے تقریباً سات لاکھ روپے (2,500 ڈالر) کا منافع کمایا، اور اب میرا یہی باغیچہ میرے پورے خاندان کا سہارا ہے۔"
تحریر: شمین رضا (کمیونیکیشنز اینڈ رپورٹنگ آفیسر، GLOF-II پروجیکٹ، UNDP پاکستان)