Press Release

Media Update: United Nations Pakistan, 1 October 2025

02 October 2025

UNODC

PRESS RELEASE

 

UNODC and NAB Round Off a Collective Journey Towards Transparency and Business Integrity

1 October 2025, Lahore — The United Nations Office on Drugs and Crime (UNODC), in collaboration with the National Accountability Bureau (NAB), concluded its series of business integrity workshops under the Global Action for Business Integrity (GABI) project with a final guest lecture at the University of Lahore.

The workshops created a platform for SMEs, the private sector, academia, and youth to learn, share, and act together on integrity. The closing session brought students and faculty into dialogue with NAB and private sector leaders, stressing that young people are vital to building a culture of accountability and transparency.

The series showed clear results. NAB was seen not only as an enforcer but also as a partner in prevention. Businesses and SMEs gained practical tools to manage risks and improve compliance. Most importantly, youth pledged to act as integrity ambassadors, making integrity part of their personal and professional values. Trust between institutions, businesses, and young people grew stronger, laying a base for long-term cooperation.

This project has laid the foundation for promoting business integrity in the private sector, widely recognized as the engine of economic growth. By combining the preventive role of NAB with active private sector participation, the initiative created a collective will to enable a transparent and growth-oriented business environment. Championing this change are young people, alongside public and private actors, who are emerging as key drivers of change through accountability and reform.

NAB and UNODC underlined that real change happens when government and partners work together with citizens.

By investing in youth, supporting SMEs, and encouraging collective action, the GABI project has helped advance meaningful reforms for a fairer and more transparent future in Pakistan.

For further information, please contact:- 

Ms. Rizwana Rahool,

Communication Officer

UNODC Pakistan

Cell: +92 301 8564255

Email: rizwana.rahool(at)un.org

 
پریس ریلیز

منظم جرائم کے خاتمہ کے لئے یو این او ڈی سی اور برطانوی حکومت کے تعاون سے پاکستان کی ایک اہم کاوش

 

اسلام آباد (یکم اکتوبر 2025 ) منظم جرائم کے خاتمہ کی پہلی قومی حکمتِ عملی وضع کرنے کے لئے دو روزہ ورکشاپ اسلام آباد میں منعقد کی گئی۔ ورکشاپ کا اہتمام اقوامِ متحدہ دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے حکومتِ پاکستان اور برطانوی حکومت کے اشتراک  سے کیا۔ ورکشاپ میں پاکستان بھر سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینئر عہدیداروں سمیت سِوِل سوسائٹی، شعبہ تدریس اور بین الاقوامی پارٹنرز کے ماہرین نے حصہ لیا۔ اس موقع پر منشیات کی تجارت، انسانی سمگلنگ، سائبرکرائم جیسے سنگین جرائم اور ان غیرقانونی سرگرمیوں سے نمٹنے کے بہتر طریقوں پر تبادلہ خیالات کیا گیا جو سرحدوں کے آر پار 



 

ہوتی ہیں اور تحفظِ عامہ کے لئے خطرات کا باعث بنتی ہیں۔

شرکاء میں وزارتِ داخلہ، انسدادِ منشیات فورس، وفاقی تحقیقاتی ادارہ، اور صوبائی پولیس فورسز سمیت اہم قومی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔ برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر جناب میٹ کینیل سمیت برطانوی ہائی کمیشن کے عہدیداروں نے بھی ورکشاپ میں شرکت کی۔

پاکستان میں یو این او ڈی سی کے کنٹری ریپریزنٹیٹو ٹروئلز ویسٹر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:

"منظم جرائم ہر فرد کو متاثر کرتے ہیں، یہ اداروں کو کمزور کرتے ہیں، کمیونٹی کو خطرات سے دوچار کرتے ہیں اور اکثر انتہائی کمزور افراد اور طبقات ان کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ ورکشاپ پاکستان، برطانیہ اور یو این او ڈی سی کے مضبوط عزم کا اظہار ہے کہ مل کر کام کرتے ہوئے ہم معاشرے کو زیادہ محفوظ اور زیادہ مضبوط 

بنائیں گے۔"

انٹی منی لانڈرنگ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر احسان صادق نے کہا کہ:



 

یہ ورکشاپ منظم جرائم کے پیچیدہ چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ حکومتِ پاکستان، یو این او ڈی سی، بین الاقوامی پارٹنرز اور ملکی متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے ہم مضبوط اور مربوط اقدامات کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ہماری اس مشترکہ کاوش کا مقصد یہی ہے کہ کمیونٹیز کو زیادہ محفوظ بنائیں، اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں اور ایک ایسا مستقبل یقینی بنائیں جس میں انصاف اور سلامتی سب کی رسائی میں ہو۔"

وفاقی تحقیقاتی ادارہ کے ڈائریکٹر جنرل راجہ رفعت مختار نے:

منظم جرائم کی بڑھتی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ سرحدوں یا کسی خاص شعبوں کے پابند نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان جرائم کو کسی خاص حدود یا دائرے میں رکھ کر زیرِغور نہیں لایا جا سکتا کیونکہ ان کے اثرات پوری دنیا میں محسوس ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ منظم جرائم ایک عالمی خطرہ ہیں جن کا 

جواب دینے کے لئے اجتماعی اقدامات اور بھرپور بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔ "

پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر میٹ کینیل نے کہا کہ:

"یہ اشتراک دونوں ممالک پر اثرانداز ہونے والے سنگین خطرات سے نمٹنے کے لئے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور یو این او ڈی سی کے ساتھ اپنے بھرپور تعاون کے ذریعے ہم سب کے لئے انصاف پر مبنی ایک محفوظ اور مضبوط مستقبل کی تعمیر میں مدد دے رہے ہیں۔ "

ورکشاپ کے دوران شرکاء نے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو روکنے کے لئے اداروں اور ایجنسیوں کے درمیان رابطے بہتر بنانے، انٹیلی جنس معلومات کے باہمی تبادلے اور قوانین کو مستحکم بنانے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرہ افراد کے تحفظ اور اس امر کو یقینی بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا کہ جرائم سے نمٹنے کی ان کوششوں میں انسانی حقوق کا احترام کیا جائے اور ان کے ذریعے صنفی برابری کو فروغ دیا جائے۔

سیشنز کے دوران ہونے والی بحثوں میں منظم جرائم سے نمٹنے کے لئے یو این او ڈی سی کی "گلوبل ٹول کٹ" سے استفادہ کیا گیا اور گفتگو میں ان چار اہم شعبوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی:  بچاؤ ، تعاقب، تحفظ اور فروغ(Prevent, Pursue, Protect, and Promote)  ۔

اس ورکشاپ کے نتائج سے پاکستان کی قومی حکمتِ عملی کی تشکیل میں مدد ملے گی جس کا مقصد کمیونٹیز کو زیادہ محفوظ بنانا، انصاف یقینی بنانے میں مدد دینا اور دوررس بنیاد پر امن و ترقی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

 

مزید معلومات کے لئے رابطہ:

محترمہ رضوانہ راہول

ای میلrizwana.rahool@un.org

📞: ‪+92-51-2601468

 

UN entities involved in this initiative

UNODC
United Nations Office on Drugs and Crime

Goals we are supporting through this initiative